طلیق اللسان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوش بیان، جس کی زبان میں طلاقت ہو۔ "جنرل رومیولو جیسے فصیح البیان طلیق اللسان مقرر نے ہر نقطہ نگاہ سے تقسیم کی تجویز کے پر خچے اڑائے۔"      ( ١٩٧١ء، تحدیث نعمت، ٥٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طلیق' کے بعد عربی حرف تخصیص 'ال' لگا کر اسم 'لسان' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٥٦ء کو "میرے زمانے کی دلی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش بیان، جس کی زبان میں طلاقت ہو۔ "جنرل رومیولو جیسے فصیح البیان طلیق اللسان مقرر نے ہر نقطہ نگاہ سے تقسیم کی تجویز کے پر خچے اڑائے۔"      ( ١٩٧١ء، تحدیث نعمت، ٥٢٤ )